سنن النسائي - حدیث 1604

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب ثَوَابِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِكٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1604

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل جوشخص ا یمان کی بنا پر ثواب کی نیت سےرمضان المبارک کی راتوں میں قیام کرے‘اسے کیا ثواب ملےگا؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے ایمان کے تقاضے سے اور صرف ثواب حاصل کرنے کے لیے رمضان المبارک کی راتوں کا قیام کیا، اس کے پہلے سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘ (۱)’’ایمان کی بناپر‘‘ مراد اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے یا روزے کے مذکورہ ثواب پر ایمان ہے اگر ایمان کی بجائے رسم سمجھ کر مذکورہ نماز پڑھی تو اس پر ثواب کا وعدہ نہیں ہے۔ (۲)’’ثواب کی نیت سے‘‘ یعنی نیت ثواب حاصل کرنے کی ہو، ریاکاری، حصول تعریف یادنیوی مقصد (مثلاً صحت وغیرہ) پیش نظر نہ ہو۔ گویا ایمان روزے کی بنیاد ہو اور ثواب مقصد۔ (۳)’’پہلے سب گناہ‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت و شفقت کا اظہار ہے۔ وہ معاف کرنے پر آئے تو صرف راستے سے ٹہنی ہٹانے والے اور کتے کو پانی پلانے والی بدکار عورت کو بھی معاف فرما دے۔ واللہ غفور رحیم۔