سنن النسائي - حدیث 1594

كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ضَرْبُ الدُّفِّ يَوْمَ الْعِيدِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1594

کتاب: نماز عیدین کے متعلق احکام و مسائل عیدکے دن دف بجانا حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عید کے دن) ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ہاں (گھر میں) دو بچیاں دف بجا رہی تھیں۔ (آپ نے انھیں نہ روکا، پھر ابوبکرداخل ہوئے تو) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھیں ڈانٹا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رہنے دو! ہر قوم کی عید ہوتی ہے (جس میں وہ کھیل کود بھی لیتے ہیں)۔‘‘ (۱)دف بجانا غیرضروری کام تو ہے مگر حرام نہیں، لہٰذا خوشی کے موقع پر نابالغ و غیرمکلف بچیاں اگر یہ کام کرلیں تو عید کی وسعت چشم پوشی کا تقاضا کرتی ہے۔ اگرچہ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی مگر روکا بھی نہیں جائے گا، البتہ حرام کام، مثلاً: موسیقی یا ڈھول وغیرہ، کو روکا جائے گا۔ حوصلہ افزائی تو کسی صورت بھی نہ کی جائے گی۔ جبکہ دیگر احادیث میں ہے کہ آپ چہرہ انور ڈھانپ کرلیٹے ہوئے تھے۔ دیکھیے: (حدیث:۱۵۹۸ اور اس کے فوائد ملاحظہ فرمائیے) گویا نہ ان کی طرف توجہ کی، نہ دیکھا، نہ ان سے پیار کیا، نہ شاباش دی بلکہ اعراض کیا اور چشم پوشی فرمائی۔ (۲)عید اور شادی وغیرہ کے موقع پر اگر چھوٹی بچیاں اپنے طور پر دف بجالیں اور پاکیزہ گانے گالیں تو کوئی حرج نہیں، البتہ اس کام کا اہتمام نہ کیا جائے۔ (۳)دف نصف ڈھول کو کہہ سکتے ہیں، یعنی ایک طرف سے بند اور دوسری طرف سے کھلا۔ اسے بجانے سے زیادہ آواز نہیں پیدا ہوتی۔ گھڑا یا پرات وغیرہ بجانا بھی دف کی ذیل میں آسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بجانے والیں نابالغ بچیاں ہوں، البتہ ڈھول کی آواز بہت بلند اورمکروہ ہوتی ہے، لہٰذا وہ منع ہے۔