سنن النسائي - حدیث 1591

كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ اجْتِمَاعُ الْعِيدَيْنِ وَشُهُودُهُمَا صحيح أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ قُلْتُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَعَمْ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ وَالْعِيدِ بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ وَإِذَا اجْتَمَعَ الْجُمُعَةُ وَالْعِيدُ فِي يَوْمٍ قَرَأَ بِهِمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1591

کتاب: نماز عیدین کے متعلق احکام و مسائل اگر جمعہ وعید دونوں ایک دن ہوں تو د ونوں میں حاضر ہونا چاہیے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے اور عید کی نمازوں میں سورۂ (سبح اسم ربک الاعلیٰ) اور (ھل اتک حدیث الغاشیۃ) پڑھتے تھے۔ جب جمعہ اور عید ایک دن اکٹھے ہوجاتے تو پھر بھی آپ یہی دونوں سورتیں پڑھتے۔ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازیں پڑھاتے تھے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے پیچھے دونوں نمازیں پڑھتے تھے کیونکہ دونوں مختلف نمازیں ہیں۔ اوقات مختلف ہیں۔ ہیئت میں بھی فرق ہے۔ ایک نفل ہے دوسری فرض۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ عید کا خطبہ جمعے کے خطبے سے کفایت کرجائے گا اور جمعے کی جگہ اصل نماز، یعنی ظہر پڑھی جاسکتی ہے، گویا عید والے دن جمعے کے بجائے ظہر پڑھ لی جائے تو درست ہے مگر یہ انفرادی طور پر ہوسکتا ہے، اجتماعی طور پر جمع ہی پڑھا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سنت ہے۔ آئندہ حدیث میں رخصت کو انفراد پر محمول کیا جائے گا، نیز یہ رخصت قرب و جوار میں رہنے والے یا دور سے آنے والے سب لوگوں کے لیے یکساں ہے۔ دونوں قسم کے لوگ اس سے مستفید ہوسکتے ہیں کیونکہ حدیث عام ہے۔ کسی فرد کی تخصیص نہیں۔ واللہ اعلم۔