سنن النسائي - حدیث 1581

كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ حَثُّ الْإِمَامِ عَلَى الصَّدَقَةِ فِي الْخُطْبَةِ صحيح المرفوع منه أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1581

کتاب: نماز عیدین کے متعلق احکام و مسائل خطبے میں امام کا صدقے کی ترغیب دلانا حضرت حسن بصری سے منقول ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیا اور فرمایا: اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ آپ نے فرمایا: یہاں اہل مدینہ میں سے کون لوگ ہیں؟ (اے اہل مدینہ!) اٹھو اور اپنے (ان بصری) بھائیوں کو تعلیم دو (بتلاؤ) کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام اورمذکرومؤنث پر صدقۂ فطر نصف صاع گندم یا جو مقررفرمایا ہے۔ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے کیونکہ حسن بصری رحمہ اللہ کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے، تاہم روایت میں بیان کردہ مسئلہ صدقۃ الفطر دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ غالباً اسی وجہ سے محققین نے روایت کے پہلے حصے [ان ابن عباس خطب بالبصرۃ۔۔۔۔ فانھم لایعلمون] کو ضعیف قرار دیا ہے اور دوسرے حصے [ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض ۔۔۔ من تعر او شعیر] کو دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ضعیف سنن ابی داود (مفصل) للالبانی: ۲؍۱۲۱۔۱۲۳، رقم:۲۸۸، ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائی:۲۲؍۲۸۰۔۲۸۶) بنابریں یہی موقف دلائل کی رو سے صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام اور مذکرو مؤنث پر نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقۃ الفطر معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک صاع کی بجائے آدھا صاع گندم بھی فطرانے میں دے دیتا ہے تو ان شاءاللہ یہ بھی جائز ہوگا۔ اسے صرف کسی صحابی کی رائے اور اجتہاد قرار دینا محل نظر ہے کیونکہ یہ مرفوعاً بھی ثابت ہے، البتہ پورا صاع دینا افضل اور اولیٰ ہے جیسا کہ عمومی احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ مزید تفصیل کے لیے سنن نسائی کی کتاب الزکاۃ، باب مکیلۃ زکاۃ الفطر دیکھیے۔