سنن النسائي - حدیث 1575

كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ قِيَامُ الْإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً ثُمَّ يَقُومُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1575

کتاب: نماز عیدین کے متعلق احکام و مسائل خطبے کے وقت امام کو کھڑا ہونا چاہیے حضرت سماک نے کہا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر کچھ دیر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوجاتے۔ اس روایت میں بھی عید کا ذکر نہیں ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ مصنف رحمہ اللہ عید کے خطبے کو جمعے کے خطبے کی طرح سمجھتے ہیں، یعنی اس کے بھی دو خطبے ہوں گے۔ درمیان میں امام بیٹھے گا۔ جمہور اہل علم اسی بات کے قائل ہیں، البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ درمیان میں بیٹھنا خطبے کی طوالت اور امام کی سہولت اور آرام کے لیے ہے یا اختتام خطبہ کا قرب ظاہر کرنے کے لیے؟ دوسری وجہ ہو تو دوسرا خطبہ مختصر ہونا چاہیے اور یہی درست ہے۔ پہلی وجہ ہو تو دونوں خطبے برابر ہونے چاہییں مگر یہ معمول نہیں۔ بعض محققین علماء نے عید میں ایک خطبہ ہی درست سمجھا ہے کیونکہ کسی صحیح روایت میں صراحتاً عید کے دو خطبوں کا ذکر نہیں۔ سنن ابن ماجہ کی جس روایت میں دو خطبوں کا ذکر ہے، وہ روایت ابوبحر عبدالرحمن بن عثمان بن امیہ اور اس کے شیخ اسماعیل بن مسلم الخولانی کی وجہ سے ضعیف اور ناقابل حجت ہے کیونکہ یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔ (سنن ابن ماجہ، اقامۃ الصلوات، حدیث:۱۲۸۹) بنابریں یہ کیفیت، یعنی درمیان میں بیٹھنا، صرف خطبۂ جمعہ میں ثابت ہے۔ راجح اور درست موقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ عید میں ایک ہی خطبہ ہے۔ واللہ اعلم۔