سنن النسائي - حدیث 1566

كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ بَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ إِلَى الْعَنَزَةِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخْرِجُ الْعَنَزَةَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى يُرْكِزُهَا فَيُصَلِّي إِلَيْهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1566

کتاب: نماز عیدین کے متعلق احکام و مسائل عیدین کی نماز میں سامنے برچھا یا نیزہ وغیرہ گاڑنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن چھوٹا نیزہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر اسے گاڑ لیتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے۔ (۱)باب کا مفہوم یہ ہے کہ کھلی جگہ میں امام کے آگے سترہ ہونا چاہیے تاکہ کسی کے گزرنے سے نماز نہ ٹوٹ جائے۔ (۲)سترے کی غرض سے نیزہ وغیرہ لے جایا جاسکتا ہے اگرچہ آپ نے بھیڑ کے موقع پر اسلحہ لے جانے سے روکا ہے کیونکہ کسی کو اتفاقاً زخم بھی لگ سکتا ہے، البتہ صرف امام کے ساتھ نیزہ ہو تو ایسا کوئی خطرہ نہیں، لہٰذا جائز ہے۔