سنن النسائي - حدیث 1537

كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ كِتَاب صَلَاةِ الْخَوْفِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَّ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُصَافُّو الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَامُوا فَقَضَوْا رَكْعَةً رَكْعَةً

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1537

کتاب: نماز کے خوف سے متعلق احکام و مسائل نماز خوف سے متعلق احکام ومسائل حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز خوف (اس طرح) پڑھائی (کہ) آپ نے ایک صف اپنے پیچھے کھڑی کر لی اور دوسری صف دشمن کے مقابل کھڑی رہی۔ آپ نے اپنے پیچھے والی صف کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ (دشمن کے مقابلے میں) چلے گئے اور وہ دوسرے آگئے۔ آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ اٹھے اور ان سب (دونوں گروہوں) نے ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لی۔ (۱)حدیث نمبر:۱۵۳۵ اور ۱۵۳۶ والی صورت اس وقت ہوگی جب دشمن قبلے کی جانب ہو۔ اس وقت امام کے پیچھے کھڑے ہوکر بھی دشمن پر نظر رکھی جاسکتی ہے، مگر زیادہ خوف ہو تو حدیث:۱۵۳۵ اور خوف کم ہو تو حدیث نمبر ۱۵۳۶ پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ مذکورہ حدیث (۱۵۳۷) اس وقت قابل عمل ہوگی جب دشمن قبلے کی بجائے کسی اور جانب ہو اور امام کے پیچھے کھڑے ہوکر اس پر نظر نہ رکھی جاسکتی ہو۔ اس وقت دو حصے کرلیے جائیں گے۔ ایک حصہ امام کے پیچھے اور دوسرا دشمن کے مقابل کھڑا ہوگا اورمذکورہ طریقے کے مطابق نماز پڑھیں گے۔ (۲)اس حدیث میں اپنے طور پر ایک ایک رکعت ادا کرنے کی تفصیل بیان کی گئی۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ دوسرا گروہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنے طور پر ایک رکعت پڑھ لے اور سلام پھیرے، پھر وہ دشمن کے مقابل چلا جائے اور یہ پہلا گروہ واپس آکر اپنی ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لے اور یہ زیادہ مناسب ہوگا کیونکہ اس طرح دوسرے گروہ کی دونوں رکعتیں اکٹھی ہوجائیں گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسرا گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلا جائے اور پہلا گروہ آکر ایک رکعت اپنے طور پر پڑھے، پھر یہ چلے جائیں اور دوسرا گروہ آکر پڑھ لے۔ یہ طریقہ بھی بعض احادیث میں آیا ہے۔