سنن النسائي - حدیث 1535

كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ كِتَاب صَلَاةِ الْخَوْفِ صحيح أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ أُنَاسٌ مِنْهُمْ ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ وَأَتَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدُوا وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلَاةٍ يُكَبِّرُونَ وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1535

کتاب: نماز کے خوف سے متعلق احکام و مسائل نماز خوف سے متعلق احکام ومسائل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ آپ نے اللہ اکبر کہا اور لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے رکوع فرمایا اور ان میں سے کچھ لوگوں (پہلی صف) نے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو جنھوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا تھا، وہ پیچھے ہٹ کر اپنے ساتھیوں کی حفاظت کرنے لگے اور دوسرا گروہ آگیا (پچھلی صف آگے آگئی)۔ اب انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (دوسری رکعت کا) رکوع اور سجدے کیے اور سب لوگ نماز میں تھے اور تکبیریں کہتے تھے لیکن ایک دوسرے کی حفاظت بھی کرتے تھے۔ اس کی صورت اس طرح بنے گی کہ مقتدی دو صفوں میں کھڑے ہوجائیں اور بیک وقت امام کے پیچھے نماز شروع کردیں، مگر جب امام رکوع اور سجدہ کرے تو صرف اگلی صف والے امام کے ساتھ رکوع و سجود کریں، پچھلی صف والے کھڑے رہیں اور دشمن پر نظر رکھیں۔ مسلح حالت میں دشمن کے حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔ جب پہلی صف والے پہلی رکعت کے رکوع و سجود سے فارغ ہوجائیں تو وہ پیچھے چلے جائیں اور پچھلی صف والے آگے آجائیں۔ اب یہ امام صاحب کے ساتھ دوسری رکعت میں رکوع سجدہ کریں گے اور پچھلی صف والے آگے آجائیں۔ اب یہ امام صاحب کے ساتھ دوسری رکعت میں رکوع سجدہ کریں گے اور پچھلی صف والے کھڑے رہیں گے اور حفاظت کریں گے، پھر امام صاحب کے ساتھ دونوں صفیں سلام پھیر دیں گی۔ اس صورت میں دونوں گروہوں نے نماز بیک وقت پڑھ لی اور ایک دوسرے کی حفاظت بھی کرتے رہے۔