سنن النسائي - حدیث 149

صِفَةُ الْوُضُوءِ حِلْيَةُ الْوُضُوءِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ خَلَفٍ وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَكَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْلُغَ إِبْطَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الْوُضُوءُ فَقَالَ لِي يَا بَنِي فَرُّوخَ أَنْتُمْ هَاهُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَبْلُغُ حِلْيَةُ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 149

کتاب: وضو کا طریقہ وضو کا زیور حضرت ابوحازم سے منقول ہے کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے۔ وہ بازو دھو رہے تھے حتی کہ بغلوں تک پہنچ گئے۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟ آپ فرمانے لگے: اوفروخ کی نسل! (عجمیو!) تم یہاں ہو؟ اگر مجھے علم ہوتا کہ تم یہاں ہو تو میں ہرگز یہ وضو نہ کرتا۔ میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا۔‘‘ (۱) یہاں زیور سے مراد حقیقی زیور ہی ہے، بعض کا قول ہے کہ یہاں زیور سے مراد نور ہے جو قیامت کے دن اس امت کے افراد کو امتیاز کے طور پر عطا کیا جائے گا، یعنی ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں نور سے چمکتے ہوں گے۔ اسی سے ان کی پہچان ہوگی۔ (۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بازوؤں کو بغلوں تک دھونا ان کا اجتہاد ہے اور انھوں نے اپنے اس اجتہاد کی وجہ بھی ذکر کر دی کیونکہ اگر یہ عمل مسنون ہوتا تو یقیناً ان کی اس خفگی کی کوئی وجہ نہ ہوتی، اس لیے انھوں نے فرمایا: ’’اگر مجھے علم ہوتا کہ تم یہاں ہو تو میں ہرگز یہ وضو نہ کرتا۔‘‘ لہٰذا افضل وضو وہی ہے جو عملاً نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف احادیث میں منقول ہے اور اسی پر اکتفا کرنا مستحب ہے۔ (۳) فروخ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام ہے جن کی اکثر نسل عجمی ہے۔ گویا کہ بنی فروخ سے مراد عجمی ہیں۔