سنن النسائي - حدیث 148

صِفَةُ الْوُضُوءِ الْقَوْلُ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْ الْوُضُوءِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ وَأَبِي عُثْمَانَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فُتِّحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 148

کتاب: وضو کا طریقہ وضو سے فارغ ہونے کے بعد کیا پڑھا جائے؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو آدمی وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر یہ پڑھے: [أشھد أن لا الہ الا اللہ……… عبدہ و رسولہ] ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد () اس کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے چوپٹ کھول دیے جاتے ہیں۔ جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔ (۱) بعض احادیث میں کلمۂ شہادت کے بعد یہ کلمات پڑھنے کا ذکر بھی ملتا ہے: [اللھم اجعلني من التوابین واجعلني من المتطھرین] (جامع الترمذي، الطھارۃ، حدیث:۵۵) ’’یا اللہ! مجھے بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے۔‘‘ لہٰذا کلمۂ شہادت کے ساتھ ان الفاظ کو بھی پڑھنا جائز ہے، لیکن وضو کے بعد دعا پڑھتے ہوئے آسمان کی طرف منہ کرنا اور انلی سے اشارہ کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، لہٰذا اس عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (۲) ’’جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔‘‘ یہ اور اس قسم کے دوسرے وعدے مشروط ہیں، یعنی بشرطیکہ اس سے کوئی ایسا کام صادر نہ ہوا ہو تو عدم مغفرت یا دخول جہنم کا لازمی سبب ہو۔ واللہ أعلم۔