سنن النسائي - حدیث 1430

كِتَابُ الْجُمْعَةِ إِطَالَةِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ شاذ بذكر إطالتهما أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا وَيَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1430

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل جمعے کے بعد دو رکعتیں لمبی پڑھی جائیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے اور انھیں لمبا کرتے تھے، نیز وہ فرماتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (۱)جمعے سے پہلے کتنی رکعات پڑھی جائیں؟ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعے سے قبل رکعتوں کی کوئی تعیین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، نہ قول سے اور نہ آپ کے عمل ہی سے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر رونق افروز ہو جاتے تو اذان شروع ہو جاتی اور اذان کے بعد آپ کسی وقفے کے بغیر خطبہ شروع فرما دیتے، لہٰذا جو شخص امام کے خطبہ شروع ہونے سے پہلے مسجد میں پہنچ جائے تو وہ بلاتعیین جتنی سنتیں اور نوافل پڑھنا چاہے پڑھ لے اور جونہی امام خطبہ شروع کرے، نوافل پڑھنا بند کر دے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (فتاویٰ ابن تیمیۃ: ۲۰-۱۸۸/۲۴، و زادالمعاد: ۴۴۰-۴۳۲/۱) ابن ماجہ کی جس روایت میں جمعے سے پہلے چار رکعت پڑھنے کا ذکر ہے، وہ سخت ضعیف ہے۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، حدیث ۱۱۲۹، و ضعیف سنن ابن ماجہ للألباني، رقم: ۱۱۳۹) عموماً اسی کے مطابق عمل ہوتا ہے۔ لیکن درست بات وہی ہے جو ذکر ہوچکی ہے۔ (۲) شیخ البانی رحمہ اللہ نے ’’لمبا کرنے‘‘ کے الفاظ کو شاذ قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (إرواء الغلیل: ۹۰،۸۹/۳)