سنن النسائي - حدیث 1415

كِتَابُ الْجُمْعَةِ بَاب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَقْصِيرِ الْخُطْبَةِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُقَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1415

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل خطبہ مختصر رکھنا چاہیے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کرتے تھے اور ضرورت سے زائد کلام کم ہی کرتے تھے۔ نماز لمبی پڑھتے تھے اور خطبہ مختصر رکھتے تھے۔ اور اس بات میں کوئی بے عزتی محسوس نہ فرماتے تھے کہ کسی بے سہارا اور بیوہ خاتون اور مسکین شخص کے ساتھ جاکر اس کا کام کر دیں۔ (۱) ’’کم ہی کرتے تھے‘‘ کہا گیا ہے کہ اس سے نفی مراد ہے، یعنی آپ بلاضرورت کلام نہیں کرتے تھے۔ عربی کا لفظ لغو استعمال ہوا ہے، لغو کے کئی معانی ہیں: گناہ والے کلام کو لغو کہتے ہیں اور بالضرورت کلام کو بھی لغو کہتے ہیں۔ آخری معنی ہوں تو ’’کم‘‘ والے معنی بھی صحیح ہیں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے نفی والے معنی ہی صحیح ہیں۔ (۲) نماز اور خطبے کا آپس میں تقابل نہیں بلکہ نمازوں سے لمبی نماز اور خطبوں میں سے مختصر خطبہ مراد ہے۔ خطبہ ایسا نہ ہو جو سامعین کے لیے اکتاہٹ اور دل کی تنگی کا سبب ہو۔ (۳) أرملۃ محتاج اور بے سہارا بیوہ ہی کو کہا جاتا ہے۔ مالدار بیوہ کو أرملۃ نہیں کہا جاتا۔