سنن النسائي - حدیث 1414

كِتَابُ الْجُمْعَةِ بَاب نُزُولِ الْإِمَامِ عَنْ الْمِنْبَرِ قَبْلَ فَرَاغِهِ مِنْ الْخُطْبَةِ وَقَطْعِهِ كَلَامَهُ وَرُجُوعِهِ إِلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ فِيهِمَا فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ كَلَامَهُ فَحَمَلَهُمَا ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ كَلَامِي فَحَمَلْتُهُمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1414

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل جمعے کے دن خطبے سے فارغ ہونے سے پہلے امام کامنبر سےنیچےاترنا‘اپنا کلام روک لینا اور دو بارہ منبر پر چڑھنا اور خطبہ مکمل کرنا حضرت بریدہ رضی اللہ اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (بروز جمعہ) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما آگئے۔ انھوں نے سرخ رنگ کی (لمبی) قمیصیں پہن رکھی تھیں۔ وہ ان میں لڑکھڑا رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خطبہ روک دیا اور منبر سے نیچے اتر کر ان دونوں کو اٹھایا، پھر منبر پر تشریف فرما ہوگئے اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: (انما اموالکم واولادکم فتنۃ) ’’بلاشبہ تمھارے اموال اور تمھاری اولاد فتنہ ہیں۔‘‘ میں نے انھیں دیکھا کہ قمیصوں میں لڑکھڑاتے (گرتے پڑتے) آ رہے ہیں۔ میں صبر نہ کر سکا حتی کہ میں نے خطبہ روکا اور انھیں اٹھایا۔‘‘ (۱) إنصات کا حکم مقتدیوں کے لیے ہے۔ امام صاحب خطبۂ جمعہ کے دوران میں کی کے ساتھ بات چیت بھی کرسکتے ہیں اور کوئی ضروری کام بھی کرسکتے ہیں۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں نہ اٹھاتے تو آپ کی توجہ انھی کی طرف مبذول رہتی۔ خطبہ تو پھر بھی منقطع ہونا ہی تھا، اس لی آپ نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ بار بار گرتے اٹھتے رہیں۔ پ نے نبوی شفقت اور اپنی شان رحیمی کو عمل میں لاتے ہوئے خطبہ منقطع فرمایا، انھیں اٹھایا اور پھر خطبہ شروع کر دیا۔ پ کا اس آیت کریمہ کا تلاوت فرمانا یہ عنی نہیں رکھتا کہ میں نے جو بچوں کو اٹھایا ہے، وہ غلط کام کیا ہے کیونکہ یہ کام تو عین تقاضائے شفقت و رحمت ہے۔ اگر نہ اٹھاتے تو مناسب نہ ہوتا، بلکہ اس آیت کریمہ کو تلاوت فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس آزمائش میں پورا اترے اور اس کے ساتھ ساتھ گمراہ بھی نہ ہو، حقوق اللہ میں کوتاہی نہ کرے اور ان کے حقوق میں بھی سستی نہ کرے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بہترین نمونہ پیش فرمایا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (۲) کسی شدید ضرورت کے پیش نظر خطبے کا تسلسل توڑ دینا، منبر سے اترنا، موضوع سے ہٹ کر کوئی اور بات کر لینا اور پھر جہاں سے چھوڑا وہیں سے خطبہ شروع کر لینا جائز ہے۔