سنن النسائي - حدیث 1413

كِتَابُ الْجُمْعَةِ بَاب الْإِشَارَةِ فِي الْخُطْبَةِ صحيح أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُصَيْنٍ أَنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَبَّهُ عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيُّ وَقَالَ مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1413

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل خطبے میں اشارہ کرنا حضرت حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعے کے دن منبر پر (جوش خطابت میں) دونوں ہاتھ اٹھائے تو حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زائد اشارہ نہیں کرتے تھے، پھر انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ (۱) جمعے کا خطبہ عبادت ہے، اس میں سنجیدگی ضروری ہے دونوں ہاتھوں کو اٹھانا سنیجدگی کے خلاف ہے، تقریر میں ایک ہاتھ یا انگلی سے اشارہ کافی ہے۔ بعض نے اس سے دوران خطبہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مراد لیا ہے، حالانکہ بعض روایات میں خطبۂ جمعہ کے دوران میں بارش کی دعا کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اٹھا کر اور آپ کے ساتھ سامعین کا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا منقول ہے۔ (صحیح البخاري، الاستسقاء، حدیث: ۱۰۲۹)، ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ معمول نہ بنایا جائے۔ کبھی کبھار اہم موقع پر ہاتھ اٹھا لیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ (۲) خلاف سنت کام کرنے والے کو روکنا چاہیے اگرچہ وہ بڑی وجاہت والا اور چودھری یا وڈیرا آدمی ہو۔ ایک مسلمان کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ اللہ کے احکام کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتا۔