سنن النسائي - حدیث 140

صِفَةُ الْوُضُوءِ الِاعْتِدَاءُ فِي الْوُضُوءِ حسن صحيح أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ الْوُضُوءِ فَأَرَاهُ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 140

کتاب: وضو کا طریقہ وضو کرتے وقت مقررہ حد سے تجاوز کرنا(منع ہے) عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ وہ آپ سے وضو کا طریقہ پوچھتا تھا۔ آپ نے اسے تین تین دفعہ اعضائے وضو دھو کر دکھائے، پھر فرمایا: ’’وضو اس طرح ہے۔ جس نے اس سے زیادہ کیا، اس نے برا کیا، حد سے بڑھا اور ظلم کا ارتکاب کیا۔‘‘ تین دفعہ دھونے سے میل کچیل دور ہو جاتا ہے، بشرطیکہ اچھی طرح دھوئے، لہٰذا اس سے زائد دھونے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ پانی ضائع ہوگا۔ اسراف کی عادت پڑے گی اور طبیعت وہمی ہو جائے گی، البتہ اگر اعضائے وضو میں سے کوئی عضو زیادہ غبار آلود ہو یا نجاست اور غلاظت لگ گئی ہو تو چاہیے کہ وضو سے قبل ہی اسے زائل کر لیا جائے اور اچھی طرح دھو لیا جائے تاکہ وضو شروع کرنے کے بعد انسان کسی طرح بھی مذکورہ وعید کا مرتکب نہ ہو۔