سنن النسائي - حدیث 1398

كِتَابُ الْجُمْعَةِ قِيَامُ الْإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَكَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَخْطُبُ قَاعِدًا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا (الجمعہ :11)

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1398

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل خطبے میں امام کا کھڑا ہونا حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہا تھا۔ وہ فرمانے لگے: اسے دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: (واذا راوا تجارۃ اولھوا انقضوا الیھا وترکوک قائما) ’’جب وہ کوئی تجارت یا کوئی تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘ یہ سورۂ جمعہ کی آخری آیت ہے۔ اس میں جمعے ہی کا ذکر ہے۔ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ تجارتی قافلے کی گھنٹیاں بجنے لگیں، لوگ غلہ حاصل کرنے کے لیے آہستہ آہستہ کھسک گئے، چند ایک باقی رہ گئے تھے۔ آپ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ اسی سے استدلال ہے، آپ کی سنت پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ آپ خطبہ ہمیشہ کھڑے ہوکر دیا کرتے تھے۔