سنن النسائي - حدیث 1396

كِتَابُ الْجُمْعَةِ بَاب الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِمَنْ جَاءَ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ قَالَ شُعْبَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1396

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل جب کو ئی شخص جمعےکے لیے آئے اورامام (خطبے کے لیے)نکل چکاہوتوبھی وہ دو رکعت نماز پڑھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص (جمعے کے لیے) آئے جب کہ امام (خطبے کے لیے) نکل چکا ہو تو وہ (مختصر سی) دو رکعتیں پڑھے۔‘‘ (۱) ان دو رکعتوں کو تحیۃ المسجد کہا جاتا ہے بعض اسے سنت جمعہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ (۲) ’’امام (خطبے کے لیے) نکل چکا ہو۔‘‘ یعنی امام صاحب خطبہ شروع کرچکے ہوں، تب بھی یہ دو رکعتیں پڑھنی چاہییں کیونکہ بہت سی صحیح روایات میں ان کے پڑھنے کا خصوصی حکم ہے، لہٰذا احناف کا یہ کہنا کہ ’’خطبہ شروع ہونے کے بعد نماز شروع نہیں کی جا سکتی‘‘ صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص بغیر دو رکعت پڑھے بیٹھ گیا تو آپ نے اسے اٹھنے اور دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاري، الجمعۃ، حدیث: ۹۳۰، ۹۳۱، و صحیح مسلم، الجمعۃ، حدیث: ۸۷۵) البتہ دو رکعت ہلکی پڑھنی چاہییں۔ (۳) خطیب دوران خطبہ مقتدیوں سے کوئی بات پوچھ سکتا ہے اور وہ اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ اس سے مقتدیوں کے استماع پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن مقتدی آپس میں ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے۔ یہ آداب خطبہ کے منافی ہے۔