سنن النسائي - حدیث 1390

كِتَابُ الْجُمْعَةِ وَقْتُ الْجُمُعَةِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْجُلَاحِ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَاعَةً لَا يُوجَدُ فِيهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1390

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل جمعے کا وقت حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جمعے کا دن بارہ گھنٹے ہے۔ (ان میں سے ایک وقت ایسا ہے کہ) اس میں جو شخص بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مانگتا پایا جائے، اللہ تعالیٰ اسے ضرور وہ چیز دے دیتا ہے۔ تو تم اس وقت کو عصر کے بعد آخری گھنٹے میں تلاش کرو۔‘‘ (۱) اس روایت میں ساعات سے مراد، معروف (ساعات نجومیہ) گھنٹے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ چند گھڑیاں ہیں جو فضیلت رکھتی ہیں اور ان میں سے سب سے افضل وہ گھڑی ہے جس میں کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ (۲) محقق روایات کے مطابق وہ وقت یا گھڑی عصر کے بعد کسی وقت ہے۔ اگرچہ اس بارے میں اور اقوال بھی ہیں۔ واللہ أعلم۔