سنن النسائي - حدیث 1383

كِتَابُ الْجُمْعَةِ الْهَيْئَةُ لِلْجُمْعَةِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهَا فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1383

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل جمعے کےلیے اچھی حا لت اختیار کرنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک (ریشمی) جوڑا (فروخت ہوتے) دیکھا تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر آپ یہ جوڑا خرید لیں اور جمعے کے دن پہنا کریں اور جب وفد آئیں، تب بھی پہنیں (تو کیا ہی خوب ہو۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے (یعنی رشیمی کپڑے کو) تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘ پھر (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسی قسم کے جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ کہنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ یہ جوڑا مجھے پہناتے ہیں جب کہ پ نے عطارد کے لائے ہوئے جوڑے کے بارے میں جو الفاظ ارشاد فرمائے تھے (وہ تو اس کےبرعکس حرمت پر دلالت کرنے والے تھے؟) آپ نے فرمایا: ’’میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا۔‘‘ تو حضرت عمر ری اللہ عنہ نے وہ جوڑا مکہ مکرمہ میں رہنے والے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا۔ (۱)اس حدیث سے بالواسطہ یہ پہلو نکلتا ہے کہ جمعے کے دن اچھا لباس (طاقت کے مطابق) پہننا چاہیے، اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ مشورہ دیا تھا، آپ نے اس کی نفی نہیں فرمائی بلکہ اس لباس کو نہ خریدنے کی وجہ یہ بتلائی کہ وہ رشیمی ہے اور ریشمی لباس مردوں کے لیے حرام ہے۔ (۲) ’’جن کا آخرت میں کویئ حصہ نہیں۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کا لباس کافر لوگ پہنتے ہیں، مسلمان نہیں پہنتے، یعنی مسلمانوں کو ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے کیونکہ انھیں رشیمی لباس آخرت میں ملے گا۔ (۳) ’’مشرک بھائی‘‘ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ماں کی طرف سے یا رضاعی بھائی تھا۔ واللہ أعلم۔