سنن النسائي - حدیث 1369

كِتَابُ الْجُمْعَةِ إِيجَابُ الْجُمْعَةِ صحيح أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ فَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِنَا فَهَدَانَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَكَذَلِكَ هُمْ لَنَا تَبَعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1369

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل جمعے کا واجب ہونا حضرت ابوہریرہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کو جمعے کا دن اختیار کرنے سے دور رکھا۔ یہودیوں کے لیے ہفتے کا دن مقرر ہوا اور عیسائیوں کے لیے اتوار کا دن۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا تو اس نے ہمیں جمعے کا دن اختیار کرنے کی توفیق دی۔ اور عبادت کے لیے جمعہ، ہفتہ اور اتوار مقرر کر دیے (اس لحاظ سے وہ ہم سے پیچھے ہیں) اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ (یہود و نصاریٰ) ہم سے پیچھے ہوں گے۔ ہم دنیا میں آنے کے لحاظ سے تو سب سے بعد میں ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے اور پہلے ہوں گے۔ تمام لوگوں سے پہلے ہمارے لیے (جنت میں جانے کا) فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘ ’’دور رکھا‘‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں زبردستی دور نہیں رکھا بلکہ انھیں اس فیصلے کی توفیق نہیں دی ……… اور توفیق دینا اللہ تعالیٰ کا افضل ہے، اس پر فرض نہیں ………اس کو ’’دور رکھنے‘‘ سے بیان فرمایا، ورنہ انھوں نے اپنی مرضی سے جمعے کے خلاف اور ہفتہ یا اتوار کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔ ہمیں صحیح فیصلے کی توفیق دینا اللہ تعالیٰ کا کرم ہے۔ والحمدللہ علی ذلک۔