سنن النسائي - حدیث 1363

كِتَابُ السَّهْوِ بَاب الْوَقْتِ الَّذِي يَنْصَرِفُ فِيهِ النِّسَاءُ مِنْ الصَّلَاةِ صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ انْصَرَفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَلَا يُعْرَفْنَ مِنْ الْغَلَسِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1363

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل عورتیں نماز سے فارغ ہو کر کس وقت گھر واپس جا ئیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فجر کی نماز پڑھتی تھیں۔ جب آپ سلام پھیرتے تو وہ فوراً اٹھ کر چلی جاتیں۔ انھوں نے بڑی چادریں لپیٹی ہوتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے انھیں پہچانا نہیں جا سکتا تھا۔ عورتوں کو سلام پھیرتے ہی اٹھ جانا چاہیے۔ مرد بیٹھے رہیں۔ مردوں کو ذکر اذکار اور سنن مؤکدہ کی ادائیگی کے بعد گھر جانا چاہیے تاکہ عورتیں ان سے پہلے گھروں میں پہنچ جائیں اور اختلاط نہ ہو۔ چادر میں لپٹی ہونے کے باوجود عورت کی چال ڈھال سے اسے پہچانا جا سکتا ہے مگر اندھیرے میں یہ چیز بھی ممکن نہیں ہوتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے فراغت غلس (اندھیرے) ہی میں ہو جاتی تھی۔