سنن النسائي - حدیث 1360

كِتَابُ السَّهْوِ بَاب الِانْصِرَافِ مِنْ الصَّلَاةِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1360

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل نماز کے بعد کس طرف سے اٹھ کے جا ئے؟ حضرت سدی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب میں نماز سے فارغ ہو جاؤں تو کیسے اٹھوں؟ دائیں جانب سے یا بائیں جانب سے؟ انھوں نے فرمایا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمومی طور پر دائیں جانب مڑ کر اٹھتے دیکھا ہے۔ باب کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ فراغت کے بعد گھر جاتے وقت کس طرف سے مڑنا چاہیے، دائیں سے یا بائیں سے؟ ظاہر ہے جس طرف کو حاجت ہو اٹھ کر جا سکتا ہے مگر دائیں جانب کو ترجیح دینا اچھی بات ہے۔ پھر جس طرف جی چاہے چلا جائے، البتہ دائیں جانب کو لازم نہ سمجھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کرکے بیٹھتے تھے۔ اس طرح آپ کا گھر دائیں جانب بن جاتا تھا تو آپ عموماً دائیں جانب کو ہی اٹھ کر تشریف لے جاتے تھے۔ کبھی گھر نہ جانا ہوتا تو دوسری جانب بھی اٹھتے تھے۔ اگر آپ قبلہ رخ بیٹھے ہوتے تو آپ کا گھر بائیں جانب تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دائیں جانب سے اٹھنے کو لازم قرار دینا برا سمجھا ہے۔ باب کا مقصود یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امام نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف کس جانب سے مڑے؟ دونوں طرف سے مڑ سکتا ہے مگر دائیں جانب افضل ہے کیونکہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں دائیں جانب کو زیادہ پسند فرماتے تھے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قصداً دائیں جانب کھڑے ہوتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ انور پہلے ہماری طرف ہوگا۔ واللہ أعلم۔