سنن النسائي - حدیث 1353

كِتَابُ السَّهْوِ نَوْعٌ آخَرُ مِنْ عَدَدِ التَّسبِيحِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ قَالَ سَمِعْتُ كُرَيْبًا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهَا وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ تَدْعُو ثُمَّ مَرَّ بِهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالَ لَهَا مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكِ يَعْنِي كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1353

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل تسبیح کی ایک اور تعداد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کےپاس سے گزرے جب کہ وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھی ذکر اذکار کر رہی تھیں۔ پھر آپ دوپہر کے قریب دوبارہ ان کے پاس سے گزرے۔ (وہ اس وقت بھی بیٹھی تھیں) آپ نے ان سے فرمایا: ’’تم اس وقت سے اسی حالت میں ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ’’میں تمھیں کچھ کلمات نہ سکھا دوں جنھیں تم پڑھا کرو: [سبحان اللہ عدد خلقہ] ’’اللہ کی تسبیح ہے، اس کی مخلوقات کی تعداد کے برابر۔‘‘ تین دفعہ [سبحان اللہ رضا نفسہ] ’’اللہ کی تسبیح ہے اس کی رضا مندی کے مطابق۔‘‘ تین دفعہ [سبحان اللہ زنۃ عرشہ] ’’اللہ کی تسبیح ہے اس کے عرش کے وزن کے مطابق۔‘‘ تین دفعہ [سبحان اللہ مداد کلماتہ] ’’اللہ کی تسبیح ہے اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔‘‘ تین دفعہ۔ (۱) صحیح مسلم کی حدیث میں یہ بھی صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آج جو کچھ تم نے کہا ہے، یہ کلمات ان سے وزن کیے جائیں تو وزن میں ان (تمھارے کہے ہوئے) کلمات سے بڑھ جائیں گے۔‘‘ اور وہ کلمات اس طرح مذکور ہیں [سبحان اللہ و بحمدہ عدد خلقہ و رضا نفسہ وزنۃ عرشہ و مداد کلماتہ] (صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: ۲۷۲۶) ان کلمات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بے انتہا تسبیحات کا مستحق ہے اور ان مذکورہ چیزوں کی تعداد اور مقدار و وزن کو کوئی نہیں جانتا۔ وہ انتہائی وزنی اوربے انتہا ہیں۔ (۲) یہ بھی ثابت ہوا کہ بعض ذکر، بعض سے افضل ہوتےہیں اور ان کا ثواب زیادہ ہوتا ہے کیونکہ سب کلام برابر نہیں ہوتے۔ (۳) اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عورتیں بہت زیادہ ذکر اذکار اور عبادت کرتی تھیں۔ (۴) نماز فجر سے لے کر دن چھڑنے تک ذکر اذکار کرنا مستحسن امر ہے۔