سنن النسائي - حدیث 1347

كِتَابُ السَّهْوِ نَوْعٌ آخَرُ مِنْ الدُّعَاءِ عِنْدَ الِانْصِرَافِ مِنْ الصَّلَاةِ ضعيف الإسناد أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ كَعْبًا حَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ الَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى إِنَّا لَنَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ دَاوُدَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ قَالَ وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلَاتِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1347

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل نماز سے فرا غت کے وقت کی ایک اوردعا حضرت ابو مروان سے روایت ہے کہ حضرت کعب نے مجھ سے حلفاً کہا: قسم اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے سمندر کو پھاڑ کر راستے بنائے! ہم تو رات میں یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے: [اللھم! أصلح لی …… منک الجد] ’’اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما جسے تو نے میرے لیے (دنیا و آخرت میں رسوائی سے) بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور میرے لیے میری دنیا کو درست فرما جسے تو نے میرے لیے زندگی گزارنے کا سبب بنایا ہے۔ اے اللہ! میں تیری ناراضی سے بچنے کے لیے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے بچنے کے لیے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیرے غضب سے بچنے کے لیے تیری (رحمت کی پناہ چاہتا ہوں۔ جو چیز تو دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے، اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی مال والے کو تیرے ہاں مال فائدہ نہیں دیتا (بلکہ عمل فائدہ دیتا ہے۔)‘‘ حضرت کعب نے کہا: مجھے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز سے فراغت کے وقت یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ (۱)یہاں ’’تورات‘‘ سے مراد وہ کتاب نہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی کیونکہ وہ کتاب تو حضرت داود علیہ السلام سےبہت پہلے کی ہے۔ اس میں ان کا تذکرہ (مندرجہ بالا صورت میں) کیسے آسکتا ہے؟ یہاں تورات سےصحف مراد ہیں جو بہت سےانبیاء پر اترے اور ان میں ’’زبور‘‘ بھی شامل ہے جو خود حضرت داود علیہ السلام پر اتری۔ آج کل ان تمام صحف کے مجموعہ کو بائبل کہتے ہیں۔ اس میں تورات بھی آ جاتی ہے، بلکہ اس میں ان انبیاء علیہم السلام کے شاگردوں کیباتیں بھی داخل ہیں، حتی کہ یہ تعین مشکل ہے کہ اس میں کون سا کلام اللہ تعالیٰ کا ہے اور کون سا انبیاء کا یا انکے شاگردوں کا؟ یہ امتیاز صرف مسلمانوں کو حاصل ہے کہ اللہ کی کتاب کلیتاً ممتاز ہے، کسی دوسرے کا ایک لفظ بھی اس میں شامل نہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں (اقوال و افعال) اپنی جگہ الگ ممتاز اور واضح ہیں۔ آپ کے شاگردانِ رشید کے فتاوی و بیانات بالکل الگ ہیں۔ کوئی کسی سے خلط ملط نہیں۔ والحمد للہ علی ذالک۔ (۲) اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ داود علیہ السلام کی شریعت میں بھی نماز مشروع تھی۔ (۳) ’’دین‘‘ انسان کے لیے بچاؤ کا ذریعہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کی تمام مکروہات سے بچاتا ہے، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کے سامنے آہ و زاری کرتا رہے اور اپنے دین کی درستی کے لیے دعا مانگتا رہے۔ (۴) دنیا انسان کے زندگی گزارنے کا سبب ہے اور پاکیزہ معاش انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب ہے، اس لیے اپنی دنیا کی اصلاح کے لیےبھی دعا کرتے رہنا چاہیے۔