سنن النسائي - حدیث 1326

كِتَابُ السَّهْوِ كَيْفَ السَّلَامُ عَلَى الشِّمَالِ صحيح أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ وَأَبِي الْأَحْوَصِ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1326

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل با ئیں طرف سلام کیسے کہا جا ئے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے (اور کہتے): [السلام علیکم و رحمۃ اللہ] حتی کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی نظر آتی، پھر بائیں طرف سلام پھیرتے (اور کہتے:) [السلام علیکم و رحمۃ اللہ] حتی کہ آپ کے بائیں رخسار کی سفیدی نظر آتی۔ روایات کے تتبع سے سلام کہنے کے چار طریقے ملتے ہیں، ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل کر لیا جائے تو درست ہے۔ (۱) دائیں اور بائیں دونوں جانب [السلام علیکم و رحمۃ اللہ] کہنا اور یہ طریقہ زیادہ مشہور اور معمول بہ ہے کیونکہ اکثر روایات میں یہی طریقہ مروی ہے۔ (۲) دائیں اور بائیں دونوں جانب [السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ] کہنا۔ (۳) دابئیں جانب [السلام علیکم و رحمۃ اللہ] اور بائیں جانب [السلام علیکم] (۴) صرف سامنے کی طرف منہ کرکے [السلام علیکم] کہنا اور چہرے کا میلان تھوڑا سا دائیں جانبہو۔ بعض علماء دائیں جانب [السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ] اور بائیں جانب [السلام علیکم و رحمۃ اللہ] کہنے کے قائل ہیں لیکن ان کا یہ موقف محل نظر ہے کیونکہ سنن ابی داود کی جس روایتسے صرف دائیں جانب [وبرکاتہ] کا اضافہ ثابت ہے علمائے محققین اس کی بابت فرماتے ہیں کہ سنن ابی داود کے صحیح اور معتمد نسخوں میں دونوں طرف [وبرکاتہ] کا اضافہ منقول ہے۔ بنابریں دائیں اور بائیں دونوں جانب [وبرکاتہ] کہنا چاہیے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (أصل صفۃ صلاۃ النبي، للألباني، ص:۱۰۳۶-۱۰۲۳، وذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائي: ۳۰۶-۲۹۶/۱۵)