سنن النسائي - حدیث 1321

كِتَابُ السَّهْوِ كَيْفَ السَّلَامُ عَلَى الْيَمِينِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ عَنْ حَجَّاجٍ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا وَضَعَ اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا رَفَعَ ثُمَّ يَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَسَارِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1321

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل دائیں طر ف سلام کیسے کہا جا ئے؟ حضرت واسع بن حبان نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: آپ جب جھکتے تھے تو اللہ أکبر کہتے تھے اور جب سر اٹھاتے تھے، تب بھی اللہ أکبر کہتے تھے۔ پھر (نماز کے اختتام پر) دائیں طرف منہ کرکے کہتے: [السلام علیکم و رحمۃ اللہ] اور بائیں طرف منہ کرکے کہتے: [السلام علیکم و رحمۃ اللہ] شریعت اسلامیہ نے جس طرح نماز کا آغاز اللہ أکبر جیسے بارعب جملے سے کیا تھا جو کہ نمازی کو لوگوں سے منقطع کرنے اور اللہ تعالیٰ سے جوڑنے پر دلالت کرتا ہے اس طرح، اس کے مقابلے میں نماز کا اختتام [السلام علیکم و رحمۃ اللہ] جیسے پرلطف جملے سے کیا جو نمازی کا تعلق پھر سے لوگوں کے ساتھ بطریق احسن جوڑ دیتا ہے۔ یہ نماز کے اختتام کا اعلان بھی ہے اور لوگوں کے ساتھ کلام کا آغاز بھی اور وہ بھی بہترین انداز میں، یعنی دعائیہ کلمات کے ساتھ۔ چونکہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا منع ہے، لہٰذا نماز کے اختتام پر سلام پھیرنا مشروع ہے۔