سنن النسائي - حدیث 1307

كِتَابُ السَّهْوِ نَوْعٌ آخَرُ مِنْ الدُّعَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ صَلَّى عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ بِالْقَوْمِ صَلَاةً أَخَفَّهَا فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهَا فَقَالَ أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالُوا بَلَى قَالَ أَمَا إِنِّي دَعَوْتُ فِيهَا بِدُعَاءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الْإِخْلَاصِ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بِالْقَضَاءِ وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَفِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1307

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل ایک اور قسم کی دعا حضرت قیس بن عباد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھائی۔ گویا کہ لوگوں نے اسے عجیب سمجھا۔ آپ نے فرمایا: کیا میں نے رکوع اور سجدے مکمل نہیں کیے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (وہ تو ٹھیک ہیں۔) آپ نے فرمایا: میں نے نماز میں وہ دعا پڑھی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پڑھا کرتے تھے: [اللھم بعلمک الغیب ……… ھداۃ مھتدین] ’’اے اللہ! چونکہ تو غیب جانتا ہے اور مخلوق پر قدرت کاملہ رکھتا ہے، لہٰذا (میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے اتنی دیر تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو اور اس وقت فوت کر دینا جب تو میرے لیے وفات بہتر سمجھے۔ میں تجھ سے خلوت و جلوت میں تیرا ڈر مانگتا ہوں اور رضا مندی وناراضی میں کلمۂ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں۔ اور تجھ سے وہ نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو اور آنکھ کی وہ ٹھنڈک (لذت و سرور) جو کبھی منقطع نہ ہو اور تقدیر پر راضی رہنے، موت کے بعد پر سرور زندگی اور تیرے روئے اقدس کی زیارت کی لذت اور تیری ملاقات کا شوق مانگتا ہوں اور ہر نقصان دہ مصیبت اور ہر گمراہ کن فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ (اور گمراہوں کے لیے) راہ دکھلانے والا (راہنما) بنا دے (۱) دونوں روایات میں معمولی لفظی فرق ہے، معنی دونوں کے ایک ہیں۔ یہ انتہائی جامع دعا ہے۔ (۲) بعض روایات میں موت کی خواہش کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، النمني، حدیث: ۷۲۳۵-۷۲۳۳) اور ان روایات میں موت کی دعا مذکور ہے۔ ان دونوں مںی تطبیق یہ ہے کہ بیماری وغیرہ یا دوسرے دنیوی مصائب کی وجہ سے موت کی خواہش کرنا منع ہے، اگر آدمی کو دین میں خرابی یا فتنے کا ڈر ہو تو ایسے حالات میں مذکورہ الفاظ کے ساتھ دعا کرسکتا ہے۔ (۳) جب تک انسان زندہ رہے اپنی خیر و بھلائی کی دعا کرتا رہے۔ (۴) مومنوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا اور وہ اللہ کو بغیر کسی رکاوٹ کے دیکھیں گے