سنن النسائي - حدیث 1304

كِتَابُ السَّهْوِ نَوْعٌ آخَرُ مِنْ الدُّعَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ حَيْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي لَأُحِبُّكَ يَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَأَنَا أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَدَعْ أَنْ تَقُولَ فِي كُلِّ صَلَاةٍ رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1304

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل ایک اور قسم کی دعا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ’’اے معاذ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھر تو کسی نماز میں یہ دعا کرنا نہ چھوڑ: [رب أعنی علی ذکرک……] ’’اے میرے رب! میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کروں اور تیرا شکر کروں اور تیری عبادت اچھی طرح بنا سنوار کے کروں۔‘‘ (۱) مذکورہ الفاظ کے ساتھ نماز میں دعا کرنا مشروع ہے۔ (۲) اس حدیث میں [في کل صلاۃ] ’’ہر نماز میں‘‘ کے الفاظ ہیں، دیگر روایات میں [في دبر کل صلاۃ] ’’ہر نماز کے بعد‘‘ کے الفاظ ہیں۔ دونوں روایتوں میں تعارض نہیں بلکہ اس میں وسعت ہے کہ بندہ سلام کے بعد بھی یہ دعا پڑھ سکتا ہے اور سلام سے پہلے بھی، اس لیے کہ دبر کے معنی ’’ہرچیز کا آخر‘‘ بھی ہیں اور ’’بعد‘‘ بھی ہیں۔ واللہ أعلم۔ (۳) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے۔ (۴) اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کسی بندے کو دوسرے سے محبت ہو تو اسے بتا دینا چاہیے، اس سے محبت میں پائیداری اور دوام ہو جاتا ہے۔ (۵) بندہ ہر وقت اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کے لیے اس سے مدد مانگتا رہے کیونکہ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اس کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں