سنن النسائي - حدیث 1302

كِتَابُ السَّهْوِ بَاب الدُّعَاءِ بَعْدَ الذِّكْرِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ أَبُو بُرَيْدٍ الْبَصْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ إِذَا رَجُلٌ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ ثَلَاثًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1302

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل ذکر کے بعد دعا حضرت محجن بن ادرع بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے جب کہ ایک آدمی اپنی نماز مکمل کر چکا تھا اور تشہد کی حالت میں تھا۔ اس نے کہا: [اللھم! انی اسئلک یا اللہ! ___ الغفور الرحیم] ’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بنا پر کہ تو واحد ہے۔ یکتا اور بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، کہ تو میرے گناہ معاف فرما دے۔ بلاشبہ تو ہی بہت زیادہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ’’تحقیق اسے معاف کر دیا گیا۔‘‘ (۱) رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ عظیم خوش خبری نہ صرف حضرت محجن رضی اللہ عنہ کے لیے تھی بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس انداز سے دعا کرے۔ یہ دعا بھی اسم اعظم کے ساتھ ہی ہے کیونکہ مذکورہ اوصاف باری تعالیٰ کی ذات بے مثال کے ساتھ خاص ہیں۔ کسی میں ان کا شمہ بھی نہیں پایا جاتا۔ (۲) نماز سے فارغ ہوکر اذکار کرنے کے بعد دعا کرنا مستحسن امر ہے۔ (۳) اپنی حاجت کا مطالبہ کرنے سے پہلے مذکورہ الفاظ کہنے سے اللہ تعالیٰ بندے کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے، بشرطیکہ اس میں بقیہ شرائط موجود ہوں، مثلاً: اس کا کھانا، پینا اور لباس حلال کا ہو۔ (۴) اللہ تعالیٰ کے تمام نام ہی مقدس و بابرکت ہیں لیکن ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کی تاثیر باقی سے بڑھ کر ہے۔ واللہ أعلم