سنن النسائي - حدیث 1295

كِتَابُ السَّهْوِ نَوْعٌ آخَرُ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ فِي حَدِيثِ الْحَارِثِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ قَالَا جَمِيعًا كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّتَيْنِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ سَقَطَ عَلَيْهِ مِنْهُ شَطْرٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1295

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل ایک اور قسم کادرود حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، لوگوںنے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم یوں کہو: [اللھم! صل علی محمد و ازواجہ و ذریتہ] ’’اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، آپ کی بیویوں اور آپ کی نسل پر رحمتیں نازل فرما۔‘‘ حارث کی حدیث میں یہ لفظ بھی ہیں: [کما صلیت ……… و ذریتہ] ’’جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر رحمتیں نازل فرمائیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، آپ کی بیویوں اور آپ کی نسل پر برکتیں نازل فرما۔‘‘ یہاں سےپھر دونوں راوی متفق ہیں: [کما بارکت ……… حمید مجید] ’’جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔‘‘ امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث حضرت قتیبہ نے دو دفعہ بیان فرمائی۔ معلوم یوں ہوتا ہے کہ ان سے ایک سطر رہ گئی۔‘‘ (۱) اس روایت میں امام صاحب کے دو استاد ہیں۔ قتیبہ اور حارث بن مسکین۔ قتیبہ کی روایت میں بعض الفاظ رہ گئے ہیں جو حارث بن مسکین نے بیان کیے ہیں۔ امام صاحب نے اس کی صراحت کی ہے۔ راویت کے الفاظ پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت قتیبہ سے پڑھتے وقت ایک سطر چھوٹ گئی ہے کیونکہ [اللھم صل] کے بعد (کما بارکت] تو نہیں آسکتا بلکہ [کما صلیت] ہی آسکتا ہے۔ (۲) مندرجہ بالا احادیث میں درود کے جو الفاظ بیان کیے گئے ہیں، ان میں معمولی لفظی فرق ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان میں سے کوئی سے الفاظ بھی پڑھ لیے جائیں، کوئی حرج نہیں،البتہ درود ابراہیمی ہو جیسا کہ روایات سے ظاہر ہے۔