سنن النسائي - حدیث 1282

كِتَابُ السَّهْوِ نَوْعٌ آخَرُ مِنْ التَّشَهُّدِ ضعيف أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ ابْنُ نَابِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ أَيْمَنَ بْنَ نَابِلٍ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَأَيْمَنُ عِنْدَنَا لَا بَأْسَ بِهِ وَالْحَدِيثُ خَطَأٌ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1282

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل ایک اور قسم کا تشہد حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس طرح تشہد سکھاتے تھے جیسے ہمیں قرآن مجید کی سورت سکھاتے تھے: [بسم اللہ و باللہ التحیات ……… واأعوذ بہ من النار] ’’اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ۔ تمام آداب، دعائیں اور پاکیزہ کلمات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ امام ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کسی دوسرے راوی نے اس روایت میں ایمن بن نابل کی موافقت کی ہو۔ ایمن ہمارے نزدیک معتبر راوی ہے، لیکن یہ روایت درست نہیں۔ اور توفیق اللہ تعالیٰ کی مدد ہی سے ملتی ہے اس روایت میں تشہد کے آغاز میں [بسم اللہ و باللہ] کا اضافہ ہے جو کسی اور راوی نے بیان نہیں کیا۔ اسی طرح آخر میں جنت و جہنم والے جملے بھی صرف اسی روایت میں ہیں اور کوئی راوی اس میں موافقت نہیں کرتا، لہٰذا یہ اضافے غریب اور شاذ ہیں، اس لیے معتبر نہیں، اگرچہ ایمن بن نابل ثقہ راوی ہے۔ ثقہ راوی کی روایت بھی اسی وقت معتبر ہوگی جب وہ کثیر ثقات یا اپنے سے اوثق (زیادہ ثقہ) راوی کے خلاف نہ ہو۔ بہرحال یہ روایت ضعیف ہے۔ (دیکھیے بعینہٖ یہی حدیث نمبر ۱۱۷۶ میں)