سنن النسائي - حدیث 1275

كِتَابُ السَّهْوِ بَاب إِحْنَاءِ السَّبَّابَةِ فِي الْإِشَارَةِ منكر بزيادة الإحناء أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَدَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الصَّلَاةِ وَاضِعًا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى رَافِعًا أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ قَدْ أَحْنَاهَا شَيْئًا وَهُوَ يَدْعُو

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1275

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل اشارے کے دوران میں انگلی کو جھکا کررکھا جا ئے حضرت نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ نے اپنا دایاں بازو اپنی دائیں ران پر رکھا تھا اور اپنی انگشت شہادت اٹھا رکھی تھی، البتہ اسے کچھ جھکایا ہوا تھا اور آپ تشہد پڑھ رہے تھے۔ محقق کتاب نے اس روایت کو سنداً حسن کہا ہے جبکہ دیگر محققین نے [قد احناھا شیئا] کے علاوہ باقی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے ان الفاظ کو منکر کہا ہے اور موسوعۃ الحدیثیۃ کے محققین نے ان الفاظ کے علاوہ باقی روایت کو صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ بنا بریں مذکورہ روایت ان الفاظ کے علاوہ قابل عمل ہے۔ واللہ أعلم، مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ضعیف سنن أبي داود (مفصل): ۹/۳۷۱، رقم: ۱۷۶، والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۲۵/۲۰۰-۲۰۱، رقم: ۱۵۸۶۶)