سنن النسائي - حدیث 1260

كِتَابُ السَّهْوِ بَاب مَا يَفْعَلُ مَنْ صَلَّى خَمْسًا حسن صحيح أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ وَأَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْفَتَلَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1260

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل جو شخص پانچ رکعات پڑ ھ بیٹھے توکیا کرئے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلے پہر کی دو نمازوں (ظہر اور عصر) میں سے کوئی ایک نماز پانچ رکعت پڑھا دی۔ آپ سے پوچھا گیا: کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’کیا ہوا؟‘‘ انھوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’میں بھی ایک انسان ہوں۔ بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو اور یاد رکھتا ہوں جس طرح تم یاد رکھتے ہو۔‘‘ پھر آپ نے دو سجدے فرمائے اور تشریف لے گئے (۱)مندرجہ بالا تمام روایات میں پانچ رکعات پڑھنے کا ذکر ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پانچ پڑھیں اور علقمہ نے بھی۔ ظاہر ہے چوتھی کو تیسری سمجھ کر ہی پانچویں پڑھی ہوگی، لہٰذا وہ (حقیقتاً) چوتھی میں نہیں بیٹھے ہوں گے۔ احناف کے نزدیک ایسی صورت میں فرضیت باطل ہو جاتی ہے مگر یہ صریح روایات ان کے موقف کی تردید کرتی ہیں۔ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں، الا یہ مانا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور علقمہ کو دو دو سہو ہوئے۔ پہلے چوتھی کو دوسری سمجھ کر بیٹھے۔ پھر صرف ایک رکعت پڑھ کر گویا تیسری میں ہی بیٹھ گئے۔ مگر یہ بہت بعید اور محض تکلف ہے۔ صحیح بات وہی ہے جو اوپر گزری۔ روایت کے ناقل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابن مسعود اور علقمہ دونوں احناف کے لیے حجت ہیں۔ (۲) ان روایات میں کلام کے بعد سجدۂ سہو کرنے کا ذکر ہے۔ اس کے بھی احناف قائل نہیں بلکہ یہ تو سلام سے متصل بعد سجدۂ سہو کے قائل ہیں اور سلام بھی صرف ایک طرف۔ فاصلہ اور کلام کی صورت میں اعادے کے قائل ہیں مگر ان کے اپنے ائمہ کی یہ روایات ان کے خلاف ہیں۔ (دونوں مسائل کی مزید تفصیل دیکھیے، حدیث: ۱۲۲۵، ۱۲۳۹)