سنن النسائي - حدیث 1220

كِتَابُ السَّهْوِ الْكَلَامُ فِي الصَّلَاةِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1220

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل نماز میں (مسنون ادعیہ کے علاوہ )کوئی کلام کرنا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (ابتدائی) دور میں لوگ نماز میں اپنے ساتھی سے ضرورت کی بات کر لیتے تھے حتی کہ یہ آیت اتری: (حافظوا علی الصلوت و الصلوۃ الوسطی و قومو اللہ فنتین) ’’تم سب نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر افضل نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں بردار ہوکر کھڑے رہو۔‘‘ تو ہمیں (اس قسم کی باتوں سے) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ (۱)’’ضرورت کی بات‘‘ مثلاً: سلام کا جواب، چھینک پر دعا، نماز سے متعلقہ وضاحتوغیرہ، نہ کہ گھریلو باتیں یا کاروباری باتیں۔ (۲) ’’افضل نماز‘‘ حدیث: ۴۷۳ میں گزر چکا ہے کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس کے متعلق اور اقوال بھی ہیں مگر راجح قول یہی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائي: ۶/۱۵۷-۱۶۲، حدیث: ۴۷۳) (۳) ’’خاموش رہنے کا حکم‘‘ یعنی اپنے ساتھی سے باتیں کرنے سے، نہ کہ مطلقاً کہ اذکار و اور ادیا قراءت فاتحہ بھی ممنوع ہو جائیں۔ ایسی تو کوئی نماز ہی نہیں جس میں کچھ نہ پڑھا جائے اور مکمل خاموشی ہو۔ ہاں! جماعت کی صورت میں جہر سے روکا گیا ہے۔ (۴) شریعت میں نسخ ثابت ہے۔ (۵) کلام کسی بھی قسم کا ہو اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔