سنن النسائي - حدیث 1176

كِتَابُ التَّطْبِيقِ نَوْعٌ آخَرُ مِنْ التَّشَهُّدِ ضعيف أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَيْمَنَ وَهُوَ ابْنُ نَابِلٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1176

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان ایک اور قسم کا تشہد حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح ہمیں قرآن مجید کی سورت سکھاتے تھے: [بس اللہ و باللہ التحیات ……… من النار] ’’اللہ کے بابرکت نام اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق کے ساتھ تمام آداب (یا قولی عبادتیں)، تمام دعائیں اور نمازیں (یا بدنی عبادات) اور تمام اچھے کلمات و افعال (یا مالی عبادات) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ کی طرف سے سلام رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے جنت مانگتا ہوں اور آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ (۱) تام قسم کے تشہد ایک جیسے ہیں۔ کہیں کہیں معمولی لفظی فرق ہے۔ معنی میں کوئی فرق نہیں۔ (۲) تمام تشہد تین چیزوں پر مشتمل ہیں: اللہ کی مجد و ثنا، نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اوردوسرے صالحین پر سلام اور شہادتین (توحید و رسالت۔) (۳) آخری قسم کے تشہد کے شروع اور آخر میں اضافے (زائد کلمات) ہیں۔ شروع میں بسم اللہ اور پخر میں سوال و تعوذ، مگر اس حدیث کا راوی ایمن بن نابل متفرد ہے۔ کسی نے اس کی موافقت نہیں کی، لہٰذا یہ غیر معتبر ہے، یعنی یہ حدیث ضعیف ہے۔ (۴) تمام قسم کے تشہدات میں نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بصیغۂ خطاب سلام کہا گیا ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے ورنہ خطاب سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ صرف صیغہ خطاب کا ہے مقصود خطاب نہیں بلکہ دعا ہے کیونکہ آپ خود بھی انھی الفاظ سے تشہد پڑھا کرتے تھے۔ ان الفاظ کو پڑھتے وقت یہ عقیدہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ سلام سن رہے ہیں۔ ہاں، آپ کو پہنچایا جائے تو الگ بات ہے۔ اسی طرح آپ کے جوابی سلام کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ (۵) [عبدہ و رسولہ] معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اوصاف فاضلہ میں سے یہ دو وصف سب سے اعلیٰ ہیں، تبھی انھیں شہادتین میں داخل کیا گیا جو کہ کسی کے ایمان کی دلیل ہیں۔ [عبد] بہت بڑا اعزاز ہے، اس لیے ہر افضل مقام میں اس کا ذکر کیا گیا ہے، مثلاً: معراج و اسرا وغیرہ۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ نجم (اسری بعیدہ) (بنی اسرائیل ۱:۱۷) اور (فاوحی الی عبدہ) (النجم ۱۰:۵۳)