سنن النسائي - حدیث 1171

كِتَابُ التَّطْبِيقِ كَيْفَ التَّشَهُّدُ الْأَوَّلُ صحيح أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ وَحَمَّادٍ وَمُغِيرَةَ وَأَبِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي التَّشَهُّدِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ أَبُو هَاشِمٍ غَرِيبٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1171

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان پہلا تشہد کیسے پڑھا جائے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تشہد کے بارے میں بتلایا: [التحیات للہ و الصلوات والطیبات، السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ و برکاتہ، السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین، اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ] ابو عبدالرحمن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (اس روایت میں) ابو ہاشم کا ذکر غریب ہے۔ (۱) ا حدیث کو امام شعبہ رحمہ اللہ سلیمان، منصور، حماد اور مغیرہ سے بیان کرتے ہیں اور یہ سب ابووائل سے بیان کرتے ہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں شعبہ کے اساتذہ میں ابو ہاشم کا ذکر درست نہیں کیونکہ انھوں نے یہ روایت ابووائل سے بیان نہیں کی، مذکورہ چار اساتذہ ہی سے بیان کی ہے۔ واللہ أعلم۔ (۲) غریب حدیث وہ ہوتی ہے جس کی سند کے کسی طبقے میں ایک راوی رہ جائے۔ مزید دیکھیے: (جلد اول میں اصطلاحات محدثین)