سنن النسائي - حدیث 1154

كِتَابُ التَّطْبِيقِ بَاب الِاعْتِمَادِ عَلَى الْأَرْضِ عِنْدَ النُّهُوضِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فَيَقُولُ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ فَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1154

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان اٹھتے وقت زمین پر ہاتھوں کا سہارا لینا ابو قلابہ سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے تھے اور کہتے تھے: کیا میں تمھارے سامنے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بیان کروں؟ پھر وہ کسی فرض نماز کے وقت کے علاوہ (نفل) نماز پڑھتے۔ جب وہ پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے اور زمین پر ہاتھوں کا سہارا لیتے۔ (۱) حدیث نمبر ۱۰۹۲ میں ذکر ہوچکا ہے کہ ہاتھ انسان کو سہارے کا کام دیتے ہیں اور ہاتھوں کے سہارے کے بغیر اٹھنا یا بیٹھنا اونٹ بلکہ عام جانوروں کی مشابہت سے جو مناسب نہیں۔ سنن ابوداود کی ایک روایت میں سہارے سے منع کیا گیا ہے۔ اسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے منکر قرار دیا ہے۔ دیکھیے، (ضعیف سنن أبن داود، رقم: ۹۹۲) (۲) بالقبع یہ بھی معلوم ہوا کہ اٹھتے وقت گھٹنے پہلے اٹھائے جائیں گے اور ہاتھ بعد میں کیونکہ سہارا بعد میں ہٹایا جاتا ہے اور اسی میں سہولت ہے۔ بوڑھے بھی آسانی سے اٹھ سکیں گے۔