سنن النسائي - حدیث 1139

كِتَابُ التَّطْبِيقِ فَضْلُ السُّجُود صحيح أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ قَالَ كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ فَقَالَ سَلْنِي قُلْتُ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ قُلْتُ هُوَ ذَاكَ قَالَ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1139

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان سجدے کی فضیلت حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے وضو کا پانی اور دوسری ضروریات مہیا کیا کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھ سے (کچھ) مانگ۔‘‘ میں نے کہا: جنت میں آپ کی رفاقت مانگتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’کوئی اور چیز؟‘‘ میں نے کہا: بس یہی مانگتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’اس سلسلے میں تو سجدوں (نفل نماز) کی کثرت کے ذریعے سے میری مدد کر۔‘‘ (۱) ملوم ہوا صرف سفارش اور دوسروں کی دعا پڑھ اعتماد کافی نہیں بلکہ خود بھی کچھ مشکلات برداشت کرنی چاہئیں تاکہ سفارش اور دعا کا صحیح محل بن سکے۔ سفارش اور دعا کی وجہ جوازی بھی تو ہونی چاہیے۔ (۲) خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ اصلاح نفس کا بہترین نسخہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز فرمایا۔ (۳) جنت میں جانے کے لیے اصلاح نفس ازحد ضروری ہے۔ (۴) مراتب عالیہ کا حصول نفس امارہ کی مخالفت ہی سے ممکن ہے۔ (۵) اس حدیث مبارکہ سے نفلی نماز کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔ (۶) جنت میں کچھ عام لوگ بھی انبیاء کے ساتھ ہوں گے۔