سنن النسائي - حدیث 1126

كِتَابُ التَّطْبِيقِ نَوْعٌ آخَر صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَطَلَبْتُهُ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1126

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان (سجدے میں) ایک اور قسم کی دعا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: (ایک رات) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو میں نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی بیوی یا لونڈی کے پاس چلے گئے ہوں گے۔ میں نے آپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا تو آپ سجدے میں تھے، یہ دعا فرما رہے تھے: ’’اے میرے رب! مجھے معاف فرما دے، وہ گناہ جو میں نے چھپ کر کیے اور جو میں نے علانیہ کیے۔‘‘ حدیث کے متن میں لفظ [جواری] ہے جس کے عام معنی لونڈیاں کیے جاتے ہیں۔ ویسے اس کے معنی بیوی بھی کیے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ لفظ آزاد عورت کے لیے بھی احادیث میں استعمال ہوا ہے۔ لونڈی کی باری مقرر نہیں ہوتی جب کہ بیوی کی (اگر ایک سے زائد ہوں) باری مقرر ہوتی ہے، لہٰذا کسی بیوی کی باری کے دن اپنی لونڈی کے پاس جانا منع نہیں، دوسری بیوی کے پاس جانا منع ہے۔ شاید اسی لیے لونڈی کا لفظ بولا ورنہ بدگمانی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔