سنن النسائي - حدیث 109

صِفَةُ الْوُضُوءِ بَاب كَيْفَ الْمَسْحُ عَلَى الْعِمَامَةِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا بَعْدَ مَا شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ عِمَامَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ قَالَ وَصَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَقَدَّمُوا ابْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى خَلْفَ ابْنِ عَوْفٍ مَا بَقِيَ مِنْ الصَّلَاةِ فَلَمَّا سَلَّمَ ابْنُ عَوْفٍ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 109

کتاب: وضو کا طریقہ عمامے(پگڑی )پر مسح کیسے کیا جائے؟ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو باتیں ایسی ہیں جن کی بابت میں کبھی کسی سے نہیں پوچھوں گا، جب کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ ہم آپ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر واپس تشریف لا کر وضو کیا اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں اطراف کا مسح فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ انھوں نے کہا: (دوسری بات) امام کا اپنی رعیت میں سے کسی آدمی کے پیچھے (اس کی اقتدا میں) نماز پڑھنا۔ تو میں نے اس کا بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےمشاہدہ کیا۔ آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہوگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (قضائے حاجت سے واپسی میں) دیر ہو گئی۔ صحابہ نے جماعت کھڑی کر لی اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر لیا۔ انھوں نے نماز پڑھائی۔ (اس دوران میں) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور آپ نے ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب عبدالرحمٰن بن عوف نے سلام پھیرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور بقیہ نماز ادا کی۔ (۱) نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سر کے مسح کے متعلق تین قسم کی احادیث ثابت ہیں۔ ان میں سے ایک یہ حدیث ہے جس میں پیشانی ک ےساتھ پگڑی پر مسح کرنے کی بھی وضاحت ہے، جس سے پتا چلا کہ یہ کیفیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور یہی امام نسائی رحمہ اللہ کی غرض معلوم ہوتی ہے۔ صرف پیشانی اور اس کے بقدر سر کا مسح کرنا مشروع نہیں ہے اگرچہ اس روایت سے احناف نے دلیل لی ہے کہ صرف پیشانی پر یا پیشانی کے بقدر (سر کا چوتھائی حصہ) مسح فرض ہے، حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پگڑی پر مسح کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صرف پگڑی پر مسح کر لیا جائے، اور یہ جائز ہے جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ نے زادالمعاد: (۱۹۴/۱) میں ذکر کیا ہے۔ اور گزشتہ حدیث (نمبر ۱۰۴) کے فوائد میں وضاحت کی گئی ہے۔ اور تیسرا پورے سرے کا مسح کرنا جبکہ سر پر پگڑی نہ ہو۔ یہ تینوں طریقے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ (۲) اس سے یہ بھی پتا چلا کہ مقتدی امام کو جس حال میں پائے، امام کے ساتھ مل جائے اور جو نماز گزر چکی ہو، وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کرے۔ (۳) جب امام راتب کسی بنا پر اول وقت سے دیر کر دے تو کوئی دوسرا آدمی اس کی جگہ نماز پڑھا سکتا ہے۔