سنن النسائي - حدیث 1074

كِتَابُ التَّطْبِيقِ بَاب الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الصُّبْح صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1074

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان صبح کی نماز میں قنوت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: ’’اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابو ربیعہ اور مکہ میں دوسرے کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! مضر (قریش) پر اپنا عذاب سخت فرما اور اس عذاب کو قحط کی صورت میں نازل فرما جو یوسف علیہ السلام کے دور کے قحط کی طرح ہو۔‘‘ (۱) الفاظ سے مراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ یہ قنوت نازلہ ہے جو آپ ہمیشہ نہیں فرماتے تھے۔ (۲) یوسف علیہ السلام کے قحط سے تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ کئی سال جاری رہا اور ایسا ہی ہوا، ان کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا قبول ہوئی، ان پر قحط سالی آئی اور مضر والے کئی برس تک قحط کی بلا میں گرفتار رہے یہاں تک کہ وہ ہڈیاں، چمڑے اور مردار تک کھانے لگے۔ پھر جب قریش اس قحط سے عاجز آگئے تو ان کا نمائندہ اور سردار ابوسفیان مدینہ منورہ حاضر ہوا اور قحط کے خاتمے کے لیے دعا کی اپیل کی تو نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مشروط طور پر قحط کے خاتمے کی دعا فرما دی اور قحط دور ہوگیا۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، الاستسقاء، حدیث: ۱۰۰۷) (۳) صبح کی نماز میں قنوت نازلہ جائز ہے۔ (۴) قنوت نازلہ رکوع کے بعد ہوگی۔ (۵) کسی کا نام لے کے دعا یا بددعا کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی جیسا کہ احناف کا موقف ہے۔ (۶) قنوت نازلہ بلند آواز سے کرنا مستحب ہے۔ صحیح بخاری میں صراحت ہے کہ آپ بلند آواز سے قنوت کراتے تھے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، التفسیر، حدیث: ۴۵۶۰) نیز سنن ابی داود کی روایت میں ہے: [یومن من خلقہ] ’’آپ کے پیچھے والے آمین کہتے تھے۔‘‘ (سنن ابی داود، الوتر، حدیث: ۱۴۴۳)