سنن النسائي - حدیث 1053

كِتَابُ التَّطْبِيقِ نَوْعٌ آخَرُ صحيح أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا يَقُولُ إِذَا رَكَعَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَمُخِّي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1053

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان ایک اور مزید ذکر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز میں کھڑے ہوتے تو رکوع کے دوران میں یوں عرض پرداز ہوتے: ’’اے اللہ! میں تیرے لیے جھکا، تجھے مانا، تیرا فرماں برادر بنا اور تجھ پر بھروسا کیا۔ تو میرا ہبرب ہے۔ میرے کان، آنکھیں، گوشت، خون، مغز اور پٹھے اللہ رب العالمین کے سامنے عاجزی اور تواضع کرتے ہیں۔‘‘ اس قسم کے الفاظ سے مقصود کامل خشوع و خضوع کا اظہار ہے۔ خشوع اگرچہ قلبی کیفیت کا نام ہے مگر اس کا اظہار اعضائے ظاہرہ ہی سے ہوتا ہے۔ رکوع اور سجود کے دوران میں نہ صرف یہ الفاظ ورد زبان ہونے چاہئیں بلکہ واقعتاً ہر عضو ظاہراً بھی باری تعالیٰ کے حضور سراپا عجز و نیاز بنا نظر آئے۔ کان اور آنکھ نماز میں کسی اور چیز کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ سر اور ہاتھ پاؤں ڈھیلے اور نرم ہوں۔ ان میں بے نیازی اور فخر نہ پایا جائے۔