سنن النسائي - حدیث 104

صِفَةُ الْوُضُوءِ بَاب الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ صحيح أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح وَأَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ بِلَالٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 104

کتاب: وضو کا طریقہ پگڑی پر مسح کرنے کا بیان حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے دیکھا۔ (۱) [الخمار] سے مراد سر ڈھاپننے والی چیز ہے، یہاں مراد پگڑی اور عمامہ ہے۔ عام اوڑھنی مراد نہیں ہے۔ (۲) صرف پگڑی پر مسح مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف پگڑی پر بھی مسح ہوسکتا ہے۔ اس کے انکار کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ رہی احناف کی یہ بات کہ صرف پگڑی پر مسح کی روایت کو پیشانی سمیت پگڑی پر مسح کی روایت پر محمول کیا جائے تو یہ تطبیق اس وقت ممکن ہوسکتی ہے جب راویٔ قصہ ایک ہی صحابی ہوتا، لیکن اس صورت میں بھی درست رائے یہی ہے کہ یہ بعید نہیں کہ صحابی نے دو مختلف حالات کا مشاہدہ کیا ہو، پھر انھیں اسی طرح بیان کر دیا ہو، کبھی اس طرح اور کبھی اس طرح جیسا کہ کسوف شمس وغیرہ کی بابت مروی ہے جبکہ یہاں تو دونوں قسم کے مسحوں کا تذکرہ کرنے والے صحابہ بھی مختلف ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں طریقے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور صحابہ نے دونوں طریقوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ بنابریں جیسے حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایت کے پیش نظر پیشانی سمیت پگڑی پر مسح کرنا جائز ہے اسی طرح حضرت بلال رضی اللہ عنہ سےمروی حدیث سے صرف پگڑی پر مسح کرنا بھی جائز ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (محلی ابن حزم: ۵۸/۲)