سنن النسائي - حدیث 1025

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ رَفْعُ الْيَدَيْنِ لِلرُّكُوعِ حِذَاءَ فُرُوعِ الْأُذُنَيْنِ صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ حَتَّى بَلَغَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1025

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: رکوع کو جاتے وقت کانوں کے برابر رفع الیدین کرنا حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ جب تکبیر تحریمہ کہتے اور جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ وہ کانوں کے کناروں کے برابر ہو جاتے۔ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ماہ رجب المرجب سن ۹ھ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہئے تھے۔ رفع الیدین کے ایک اور راوی صحابیٔ رسول حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ شوال المکرم ۱۰ھ میں حاضر ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر عمر تک رفع الیدین فرماتے رہے۔ اس حدیث سے احناف کے دعوائے نسخ کی تردید ہوتی ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ احناف رکوع کو جاتے اور اٹھتے وقت کے رفع الیدین کو تو نہیں مانتے جو بہت قوی اسناد سے ثابت ہیں مگر قنوت وتر اور تکبیرات عیدین کے رفع الیدین کے قائل ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ اگر رفع الیدین منسوخ ہے تو یہ دو کیوں نہ منسوخ ہوئے؟ آخر تفریق کی کوئی وجہ؟ جو اعتراضات رکوع کے رفع الیدین پر کیے جاتے ہیں، کیا وہ قنوت کے رفع الیدین پروارد نہیں ہوتے؟ رفع الیدین منسوخ بھی ہے، نماز کے سکون کے منافی بھی ہے مگر شروع نماز میں دوران نماز قنوت وتر میں اور عیدین کی تکبیرات میں بار بار کیے بھی جا رہے ہیں؟ صرف رکوع کا رفع الیدین ہی اتنا قبیح ہے کہ اس پر اعتراضات بھی ہیں اور وہ منع بھی ہے؟ کیا صرف رکوع کے رفع الیدین کے نسخ کی کوئی معقول وجہ ہے؟ یا تو سب کو ختم کر دیا انھیں بھی مانو۔ یاأولی الالباب! (مزید بحث کے لیے دیکھیے فوائد حدیث نمبر ۸۷۷ و مابعد)