سنن النسائي - حدیث 1011

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ تَرْدِيدُ الْآيَةِ حسن أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(المائدۃ:118)

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1011

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: ایک آیت کو بار بار دہرانا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دفعہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری رات ایک آیت بار بار پڑھتے گزار دی حتی کہ صبح ہوگئی۔ اور وہ آیت یہ تھی: (ان تعذبھم فانھم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم) ’’(اے میرے مولا!) اگر تو ان (بندوں) کو عذاب دے تو بے شک وہ تیرے غلام ہیں (چوں نہیں کرسکتے۔) اور اگر تو انھیں بخش دے تو بلاشبہ تو ہی غالب حکمت والا ہے۔‘‘ (کوئی تجھ پر اعتراض نہیں کرسکتا، نیز رحمت و مغفرت پر کیا اعتراض؟) (۱) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں ایک آیت کو بار بار پڑھا جا سکتا ہے۔ (۲) نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت کےل یے بہت فکر مند تھے اور ہر نیک و بد کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہتے تھے۔ (۳) کسی کو بخشایا اسے سزا دینا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو کسی کے اچھے یا برے انجام کا فیصلہ کرسکے حتی کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس چیز کا اختیار نہیں رکھتے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب دینے کا فیصلہ کر دیں تو نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے عذاب سے بچا سکیں۔ ہاں! اللہ تعالیٰ سفارش کا حق دیں گے جسے چاہیں گے اور جس کے لیے چاہیں گے۔