سنن النسائي - حدیث 1009

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ تَعَوُّذُ الْقَارِئِ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَرَأَ فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ وَقَفَ وَتَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ وَقَفَ فَدَعَا وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1009

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: قرآن مجید پڑھنے والا جب عذاب والی آیت پڑھے تو اللہ کی پناہ طلب کرے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی۔ آپ ن قراءت فرمائی تو جب عذاب والی آیت پڑھتے تو رکتے اور اللہ کی پناہ مانگتے۔ اور جب رحمت والی آیت پڑھتے تو رکتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت مانگتے۔ اور اپنے رکوع میں [سبحان ربی العظیم] ’’پاک ہے میرا عظمت والا رب۔‘‘ اور سجدے میں [سبحان ربی الاعلی] ’’پاک ہے میرا بلند و بالا رب۔‘‘ پڑھتے۔ قرآن مجید پڑھتے وقت انسان میں جذب کی کیفیت ہونی چاہیے کہ قرآن کا ہر لفظ اس پر اثر کرے۔ اس کیفیت سے پڑھنے والا انسان لازماً وہی کرے گا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بیان کیا گیا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ رحمت کی آیت سے گزر جائے اور رحمت طلب نہ کرے یا عذاب کا ذکر پڑھے اور عذاب سے بچاؤ کی درخواست نہ کرے۔ قرآن کا اثر ہونا لازمی امر ہے۔ اس کیفیت کو صرف نفل نماز سے خاص کرنا احناف کی زیادتی ہے۔ کیا فرض نماز میں خشوع خضوع ممنوع ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ نوافل سے زیادہ مطلوب ہے، اس لیے فرائض میں بھی آیت عذاب یا رحمت پڑھتے وت عذاب سے پناہ اور رحمت کی التجا کرنا مستحسن امر ہے۔