سنن النسائي - حدیث 1007

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ قِرَاءَةُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي قَرَأْتُ اللَّيْلَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ مِنْ آلِ حم

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1007

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنا حضرت مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: تحقیق میں نے آج رات تمام مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیں۔ انھوں نے فرمایا: تو نے اس طرح تیز تیز پڑھا ہوگا جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں؟ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ملتی جلتی بیس سورتیں (دس رکعتوں میں) پڑھتے تھے جو مفصل سے حم والی سورتیں تھیں۔ (جن سورتوں کے شروع میں حم ہے۔) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں سورتوں ک ی ترتیب مصحف عثمانی سے کچھ مختلف تھی، اس لیے ان کی مفصل سورتوں کی ترتیب کا موجودہ قرآن مجید کی ترتیب سے اختلاف تھا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس نزولی ترتیب تھی۔