سنن النسائي - حدیث 1004

كِتَابُ الِافْتِتَاحِ الرُّكُودُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ صحيح أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ أَبُو الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ وَقَعَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي سَعْدٍ عِنْدَ عُمَرَ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يُحْسِنُ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَخْرِمُ عَنْهَا أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1004

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل باب: پہلی دو رکعتوں میں ٹھہرنا (انھیں لمبا کرنا) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کوفہ میں سے کچھ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی شکایات کیں۔ کہنے لگے: اللہ کی قسم! وہ نماز بھی صحیح نہیں پڑھاتا۔ حضرت سعد نے فرمایا: میں تو انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جیسی نماز پڑھاتا ہوں، اس سے ذرہ بھر کمی نہیں کرتا۔ میں پہلی دو رکعتوں میں ٹھہرتا (لمبی قراءت کرتا) ہوں اور آخری دو میں اختصار کرتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمھارے بارے میں یہی گمان ہے۔