كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ صحيح حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ - أَوْ يَعْلَمُونَ - مَا فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ لَكَانَتْ قُرْعَةً» وَقَالَ ابْنُ حَرْبٍ: «الصَّفِّ الْأَوَّلِ مَا كَانَتْ إِلَّا قُرْعَةً»
کتاب: نماز کے احکام ومسائل صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حساب سے صفوں کی فضیلت، پہلی صف میں شرکت کے لیے ازدحام اور مسابقت، جن لوگوں کو (دوسروں پر) فضیلت حاصل ہے ان کو آگے کرنا اور امام کے قریب جگہ دینا۔ ابراہیم بن دینار اور محمد بن حرب واسطی نے کہا: ہمیں ابو قطن عمرو بن ہیثم نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے خلاس سے، انہوں نے ابو رافع سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اگر تم جان لو، یا لوگ جان لیں کہ اگلی صف میں کیا (فضیلت) ہے تو اس پر قرعہ اندازی ہو۔‘‘ ابن حرب نے (فی الصف المقدم لکانت قرعۃ کے بجائے) فی الصف الأول ما کانت إلا قرعۃ ’’پہلی صف میں کیا ہے تو قرعہ کے سوا کچھ نہ ہو‘‘ کہا۔