كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ صحيح 122 - (432) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ، وَيَقُولُ: «اسْتَوُوا، وَلَا تَخْتَلِفُوا، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: «فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا»
کتاب: نماز کے احکام ومسائل صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حساب سے صفوں کی فضیلت، پہلی صف میں شرکت کے لیے ازدحام اور مسابقت، جن لوگوں کو (دوسروں پر) فضیلت حاصل ہے ان کو آگے کرنا اور امام کے قریب جگہ دینا۔ عبد اللہ بن ادریس، ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے عمارہ بن عمیر تیمی سے، انہوں نے ابو معمر سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نماز میں (ہمیں برابر کھڑا کرنے کے لیے) ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر فرماتے: ’’برابر ہو جاؤ اور جدا جدا کھڑے نہ ہو کہ اس سے تمہارے دل باہم مختلف ہو جائیں، میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے دانش مند (کھڑے) ہوں، ان کے بعد وہ جو (دانش مندی میں) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں۔‘‘ ابو مسعود نے فرمایا: آج تم ایک دوسرے سے شدید ترین اختلاف رکھتے ہو۔